تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم




تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم
گذر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے ، نہ زاہد ، نہ حکیم
عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام
سب مسافر ہیں بظاہر ، نظر آتے ہیں مقیم
ہے گراں سیر غم راحلہ و زاد سے تو
کو و دریا سے گزر سکتے ہیں مانند نسیم
مرد درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب زر و سیم
علامہ اقبال




اپنا تبصرہ بھیجیں