وہ حرف راز کو مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں




وہ حرف راز کو مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخئی افلاک میں ہے خوارو زبوں
حیات کیا ہے ؟ خیال و نظر کی مجذوبی
خود کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں کوں
عجب مزا ہے مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہون
ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستئی شوق
نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں !
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی ؐ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں !
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں !
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں!
اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں !
علامہ اقبال




اپنا تبصرہ بھیجیں