وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی




وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی
میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی
میں کہاں ہوں تو کہاں ہے ؟ یہ مکاں کو لامکاں !
ٰٰیہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں !
کبھی سوزو ساز رومی ، کبھی پیچ و تاب رازی
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کر کسوں میں !
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی
نہ زباں کوئی غزل کی ، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو عجمی ہو یا کہ تازی
نہیں فقرو سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی ، وہ نگہ کی تیغ بازی !
کوئی کارواں سے ٹوٹا ، کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیر کارواں میں نہیں خوے دل نوازی !
علامہ اقبال




اپنا تبصرہ بھیجیں