یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ




یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ
یک رنگی و آزادی اے ہمت مردانہ
یا سنجر و طغرل کا آئین جہانگیری !
یا مرد قلندر کے انداز ملوکانہ !
یا حیرت فارابی، یا تابو تب رومی
یا فکر حکیمانہ ، یا جذب کلیمانہ
یا عقل کی روباہی، یا عشق ید اللہی
یا حیلہ افرنگی، یا حملہ ترکانہ !
یا شرع مسلمانی، یا دیر کی دربانی
یا نعرۂ مستانہ، کبوہ ہو کر بت خانہ
میری میں، فقیری میں، شاہی میں، غلامی میں
کچھ کام نہیں بنتا بے جرأت رندانہ
علامہ اقبال




اپنا تبصرہ بھیجیں