یہ کون غزل خواں ہے پر سوزو نشاط انگیز




یہ کون غزل خواں ہے پر سوزو نشاط انگیز
اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز
گو فقیر بھی رکھتا ہے انداز ملوکانہ !
ناپختہ ہے پرویزی، بے سلطنت پرویز
اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی
خون دل شیراں ہو ، جس فقر کی دستاویز
اے حلقہ درویشاں وہ مرد خدا کیسا !
ہو جس کے گریباں میں ہنگامہ رستاخیز !
جو ذکر کی گرمی سے شعلے کی طرح روشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز
کرتی ہے ملوکیت آثار جنوں پیدا
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا پارس
یہ کافر ہندی ہے بے تیغ و سناں خونریز !
علامہ اقبال




اپنا تبصرہ بھیجیں