دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ




دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
ترا بحر پر سکوں ہے یہ سکوں ہے یا فسوں ہے
نہ نہنگ ہے نہ طوفاں نہ خرابی کنارہ
تو ضمیر آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہے
نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہ
ترے نیستاں میں ڈالا مرے نغمۂ سحر نے
مری خاک پے سپر میں جو نہاں تھا اک شرارہ
نظر آئے گا اسی کو یہ جہان دوش و فردا
جسے آگئی میسر مری شوخی نظارہ
علامہ اقبال




اپنا تبصرہ بھیجیں