سخن پیروی کی گر سلف کی




سخن پیروی کی گر سلف کی
انہیں باتوں کو دہرانا پڑے گا
تعلق کا ہے پھندا پیچ در پیچ
یہ عقدہ ہم کو سلجھانا پڑے گا
بہت یاں ٹھوکریں کھائی ہیں ہم نے
بس اب دنیا کو ٹھکرانا پڑے گا
نہیں بو انسکی اس غمکدے میں
کہیں دل جا کے بہلانا پڑے گا
دل اب صحبت سے کوسوں بھاگتا ہے
ہمیں یاروں سے شرمانا پڑے گا
زمانہ کر رہا ہے قطع پیوند
وفا سے ہم کو پچھتانا پڑے گا
جو منصوبے ہیں یہ حالی تو شاید
ارادہ فسخ فرمانا پڑے گا
بشر پلو میں دل رکھتا ہے جب تک
اسے دنیا کا غم کھانا پڑے گا
خواجہ الطاف حسین حالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں