سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا




سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا
یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا
ہوئے تم نہ سیدھے جوانی میں حالی
مگر اب مری جان ہونا پڑے گا
خواجہ الطاف حسین حالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں