یار رب نگاہ بد سے چمن کو بچائیو




یار رب نگاہ بد سے چمن کو بچائیو
بلبل بہت ہے دیکھ کے پھولوں کو باغباغ
آئیں پئیں وہ شوق سے جو اہل ظرف ہوں
ساقی بھرے کھڑا ہے مئے لعل سے ایاغ
حالی بھی پڑھنے آئے تھے کچھ بزم شعرو میں
باری تب ان کی آئی کہ گل ہو گئے چراغ
خواجہ الطاف حسین حالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں