تو نہیں ہوتا تو رہتا ہے اچاٹ




تو نہیں ہوتا تو رہتا ہے اچاٹ
دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ
رچ رہی ہے کان میں یاں لے وہی
اور مغنی نے کئی بدلے ہیں ٹھاٹ
ناؤ ہے بوسیدہ اور موجیں ہیں سخت
اور دریا کا بہت چکلا ہے پاٹ
دیر سے مسجد میں ہم آئے تو ہیں
ہے مگر یاں جی کچھ اے زاہد اچاٹ
تیغ میں برش یہ لے حالی نہیں
جس قدر تیری زباں کرتی ہے کاٹ
خواجہ الطاف حسین حالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں