یہ غم نہیں ہے وہ جسے کوئی بٹا سکے




یہ غم نہیں ہے وہ جسے کوئی بٹا سکے
غمخواری اپنے رہنے دے اے غمگسار بس
ڈر ہے دلونکے ساتھ امیدیں بھی پس نجائیں
اے آسپائے گردش لیل و نہار بس
دیں غیر دشمنی کا ہماری خیال چھوڑ
یاں دشمنی کے واسطے کافی ہیں یاربس
آتا نہیں نظر کہیہ ہو رات اب سحر
کی نیند کیوں حرام بس اے انتظار بس
تھوڑی سی رات اور کہانی بہت بڑی
حالی نکل سکین گے نہ دل کے بخار بس
خواجہ الطاف حسین حالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں