ذوق سب جاتے رہے جز ذوق درد




ذوق سب جاتے رہے جز ذوق درد
اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا
عیب سے خالی نہ واعظ ہے نہ ہم
ہم پہ منہ آئے گا منہ کی کھائے گا
باغ و صحرا میں رہے جو تنگ دل
جی قفس میں اس کا کیا گھبرائے گا
ابرو برق آئے ہیں دونوں ساتھ ساتھ
دیکھئے برسے گایا برسائے گا
مشکلوں کی جس کو حالی ہے خبر
مشکلیں آساں وہی فرمائے گا
خواجہ الطاف حسین حالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں