لوگوں کے غم سنتے سنتے دل پتھر ہو جائے گا




لوگوں کے غم سنتے سنتے دل پتھر ہو جائے گا
ساری دنیا گھوم چکے ہیں جانے گھر کب آئے گا
دل کی بستی ایسی اجڑی خاک اڑے ہے یادوں کی
کب بر کھا کی آمد ہو گی کب آنچل لہرائے گا
بات ہے سیدھی مان لے سادھو بے دردوں کی نگری ہے
جو بھی من کی بات سنے گا یہاں وہ غم ہی پائے گا
اپنی ساری عمر کٹی ہے حسن اور عشق کی راہوں پر
ان رستوں پہ دل ہے ہے رہبر دل تو دھوکا کھائے گا
کان بھی اب تو ترس گئے ہیں نام پیا کا سننے کو
نین بسے ان بام و در کا کب کوئی حال سنائے گا
عامر بن علی




اپنا تبصرہ بھیجیں