خزاں کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں




خزاں کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں
وہ زرد پتے اڑانے والی
ہوائیں اب سرد ہو رہی ہیں
ہر ایک شب کی
ٹھٹھر تی دھڑکن یہ کہہ رہی ہے
خزاں کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں
تمہیں مبارک ہو اہل گلشن
ملن کے غنچے کھلانے والی
بہار آنے کو ہے ۔ وہ دیکھو
خزاں کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں
عامر بن علی




اپنا تبصرہ بھیجیں