محبت چھوگئی دل کو




محبت چھوگئی دل کو
پرندوں کے حسیں نغموں کی لوچن
بڑھتی جاتی ہے
مہک ایسی کہاں ہوتی تھی پھولوں میں کبھی پہلے
زمیں کے رنگ اجلے لگ رہے ہین
اس لیے شاید
کہ ساون رت میں سارے داغ دھبے
دھل ہی جاتے ہیں
مگر یوں زندگی سے پیار پہلے تو کبھی کب تھا
طبیعت میں عجب مستی ہے
دنیا اچھی لگتی ہے
ہمارے ہر طرف یہ اجنبی خوشبو جو پھیلی ہے
تو لگتا ہے
محبت چھوگئی دل کو
محبت ہو گئی جاناں ۔۔۔۔۔!
عامر بن علی




اپنا تبصرہ بھیجیں