پھر وہ چہرہ زخم جگانے آیا تھا




پھر وہ چہرہ زخم جگانے آیا تھا
یاد کا جھونکا رات رلانے آیا تھا
زخمی سوچ اور ٹوٹے دل پہ اشک زدہ
یار جو میرے درد بٹانے آیا تھا
ہاتھ ہین چھلنی آنکھیں ریزہ ریزہ ہیں
میں صحرا میں پھول کھلانے آیا تھا
دروازے پہ دستک جانے کس نے دی
درد پرانا نئے بہانے آیا تھا
بے چینی اور بدامنی کا راج رہا
موسم گل تو خوں میں نہانے آیا تھا
اہل ہنر کچھ زنداں کچھ مقتل کو گئے
یہ حاکم بھی ملک بچانے آیا تھا
عامر بن علی




اپنا تبصرہ بھیجیں