تم سے شکوہ نہ زمانے سے شکایت کی ہے




تم سے شکوہ نہ زمانے سے شکایت کی ہے
ہم ہی مجرم ہیں کہ اس دور میں چاہت کی ہے
لوگ ناداں ہیں جو پھر شور اٹھا دیتے ہیں
شیخ نے تو سدا مسند کی حمایت کی ہے
عشق والوں نے کبھی ظلم پہ بیعت نہیں کی
ہم نے ہر دور کے جابر سے بغاوت کی ہے
رزم گاہوں میں کٹا کرتی ہے شاہوں کی حیات
محسن والوں نے اداؤں سے حکومت کی ہے
چاہتیں اور بھی گزری ہیں زمانے میں مگر
جیسے ہم کرتے ہیں کب کس نے محبت کی ہے
عامر بن علی




اپنا تبصرہ بھیجیں