تجھے تجھ سے چرانا چاہتا ہوں




تجھے تجھ سے چرانا چاہتا ہوں
جنوں کو آزمانا چاہتا ہوں
ہمارے درمیاں جو موجزن تھا
وہی رشتہ پرانا چاہتا ہوں
مکاں بدلے ہیں کتنے اس نگر میں
میں اب کے گھر بسانا چاہتا ہوں
سمے کی آندھیوں سے بجھ نہ پائے
دیا ایسا جلانا چاہتا ہوں
یہ دنیا تو بہت چھوٹی ہے جاناں
ترے دل میں سمانا چاہتا ہوں
تمہارا ساتھ ہو اور گیت لکھوں
میں جیون شاعرانہ چاہتا ہوں
عامر بن علی




اپنا تبصرہ بھیجیں