سوچ کے سانچے میں الفاظ جو ڈھل جاتے ہیں




سوچ کے سانچے میں الفاظ جو ڈھل جاتے ہیں
وہ ہمیں لے کے بہت دور نکل جاتے ہیں
کیسا غم ہے جو ہر اک روز بڑھا جاتا ہے
وقت کے ساتھ سنا تھا کہ سنبھل جاتے ہیں
سنگ دل ہو کوئی یا مصلحت اندیش یہاں
پیار کی راہ میں دل سب کے پگھل جاتے ہیں
کچھ نہیں مانگتے ہم تیرے سوا دنیا سے
اور ہوں گے جو کھلونوں سے بہل جاتے ہیں
سانس کی ڈور ترے نام کی مالا ہے ہمیں
تجھ سے غافل ہوں تو ہم سوئے اجل جاتے ہیں
اور عامر تمہیں معلوم ہے اس بستی میں
ایسے حاکم ہیں جو ہر خواب نگل جاتے ہین
جن کو منزل سے شناسا کیا ہم نے عامر
وہ ہمیں دیکھ کے رستہ ہی بدل جاتے ہیں
عامر بن علی




اپنا تبصرہ بھیجیں