تیرا نام




نہ تھی روشنی کسی آنکھ میں کسی خواب کی
یہ عجیب شام فراق تھی
لب بے نواکے حصار میں کہیں ایک حرف دعانہ تھا
وہ فشار تھا مری روح میں کہیں جیسے کوئی خدا نہ تھا
فقط ایک چشم جمال نے مرے خ و کو بدل دیا
رہ بے چراغ اجال دی مرے چار سوکو بدل دیا
امجد اسلام امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں