ا لجھن




وہ ایک سوچا ہوا ناز سا تکلم میں
نظر میں ایک جھجک سی کوئی بنائی ہوئی
لبوں پہ ایک تبسم ذرا لجایا سا
جبیں پہ بزم مروت سجی سجائی ہوئی
ڈھکا ڈھکا سا تکبر وہ بات سننے میں!
تھی جس میں حسن کی نازش کہیں چھبائی ہوئی
بدن میں خوف کی لرزچ بھی ، اور دعوت بھی !
گریز کرتی ہوئی اور قریب آئی ہوئی
کچھ اس کو دیکھ کے کھلتا نہ تھا کہ کیا ہے وہ !
فریب دیتی ہوئی یا فریب کھائی ہوئی
امجد اسلام امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں