یہ بستی




زندگی بھی مہنگی ہے موت بھی نہیں سستی
یہ زمین بے سایہ
گھر گئی خدا جانے کن عجب عذابوں میں
بے وجود سایوں کا یہ جو کارخانہ ہے
کن عجب سرابوں میں کس طرف روانہ ہے ؟
نیستی ہے یا ہستی !
زندگی بھی مہنگی ہے، موت بھی نہیں سستی !
امجد اسلام امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں