ساحل




تمہارے نام کے حرفوں سے بہتر حرف ابجد میں نہیں ہیں
نجانے کب سے یہ موسم
ستاروں کی طرح دھرتی کے سینے پر فروزاں ہیں
مگر ان کی نگاہوں نے
تمہارے وصل کے لمحوں سے بہتر وقت
دیکھا ہے نہ سوچا ہے
ہوا نے منظروں پر آج تک جو کچھ بھی لکھا ہے
تمہارے نام لکگا ہے
خلا میں ٹوٹتے تارے ، تمہارے بام سے گزریں
تورکنے کو مچلتے ہیں
فلک کو چومتے جذبے تمہاری آنکھ سے اتریں
تو پاتا لوں میں گرتے ہیں
تمہارے خواب سے روشن منارے
وقت کے دریائے بے حد میں نہیں
تمہارے نام کے حرفوں سے بہتر حرف ، ابجد میں نہیں ہیں
امجد اسلام امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں