جو کچھ کہو قبول ہے تکرار کیا کروں




جو کچھ کہو قبول ہے تکرار کیا کروں
شرمندہ اب تمہیں سر بازار کیا کروں
معلام ہے کہ پار کھلا آسمان ہے
چھٹتے نہیں ہیں یہ در و دیوار کیا کروں
اس حال میں بھی سانس لیے جا رہا ہوں میں
جاتا نہیں ہے آس کا آزار کیا کروں
پھر ایک بار وہ رخ معصوم دیکھتا
کھلتی نہیں ہے چشم گنہگار کیا کروں
یہ پر سکون صبح یہ میں یہ فضا شعور
وہ سو رہے ہیں اب انہیں بیدار کیا کروں
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں