اکیلے کیا پس دیوار و در گئے ہم تم




اکیلے کیا پس دیوار و در گئے ہم تم
سگان خفتہ کو بیدار کر گئے ہم تم
قدم قدم پہ عجب بے حیا نگاہوں کا
حصار سا نظر آیا جدھر گئے ہم تم
فلک کی دھن تھی مگر فرش پر ہمارے پاؤں
جمے نہ تھے کہ خلا میں بکھر گئے ہم تم
رہے یہ ہمت پرواز بھی مگر اب تو
نشیب میں کئی زینے اتر گئے ہم تم
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں