نادم ہیں اپنی بھول پہ ہم ، بھول جائیے




نادم ہیں اپنی بھول پہ ہم ، بھول جائیے
جو کچھ ہوا براہ کرم بھول جایئے
ہم نے سرور و لطف میں جو کچھ کہا سنا
سب جھوٹ تھا خدا کی قسم بھول جایئے
تکلیف اور غم کا مداوا ہے ایک ہی
پی لیجیے پیالہ سراط بوند بوند
آب حیات ہے کہ یہ سم بھول جائیے
ہونا بھی ایک خواب نہ ہونا بھی ایک خواب
کیا ہے وجود کیا ہے عدم بھول جائیے
رکھیے اب اپنی عمر کی نقدی سنبھال کر
جو خرچ ہو گئی وہ رقم بھول جائیے
آپ ایک بار آگئے سو آگئے شعور
باغ جہاں میں باغ ارم بھول جائیے
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں