نہ سہہ سکوں گا غم ذات کو اکیلا میں




نہ سہہ سکوں گا غم ذات کو اکیلا میں
کہاں تک اور کسی پر کروں بھروسا میں
ہنر وہ ہے کہ جیوں چاند بن کے آنکھوں میں
رہوں دلوں میں قیامت کی طرح برپا میں
وہ رنگ رنگ کے چھینٹے پڑے کہ س کے بعد
کبھی نہ پھر نئے کپڑے پہن کے نکلا میں
نہ صرف یہ کہ زمانہ ہی مجھ پہ ہنستا ہے
بنا ہوا ہوں خود اپنے لیے تماشا میں
مجھے سمیٹنے آیا بھی تھا کوئی ؟ جس وقت
دیار و دشت و دمن میں بکھر رہا تھا میں
نہ میں کسی کے لیے ہوں نہ کوئی میرے لیے
یہ زندگی ہے تو کیا میری زندگی کیا میں
یہ کس طرح کی محبت تھی کیسا رشتہ تھا
کہ ہجر نے نہ رلایا اسے نہ تڑپا میں
پڑا رہوں نہ قفس میں تو کیا کروں آخر
کہ دیکھتا ہوں بہت دور تک دھند لگا میں
بہت ملول ہوں اے صورت آشنا تجھ سے
کہ تیرے سامنے کیوں آگیا سراپا میں
یہی نہیں کہ تجھی کو نہ تھی امید ایسی
مجھے بھی علم نہیں تھا کہ یہ کروں گا میں
میں خاک ہی سے بنا تھا تو کاش یوں بنتا
کہ اس کے ہاتھ سے گرتے ہی ٹوٹ جاتا میں
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں