پیو کہ ماحصل ہوش کس نے دیکھا ہے




پیو کہ ماحصل ہوش کس نے دیکھا ہے
تمام وہم و گاں ہے تمام دھوکا ہے
کسی نے خواب کے ریزے پلک پلک چن کر
جو شاہکار بنایا ہے ٹوٹ سکتا ہے
میں انتظار کروں گا اگر مری فریاد
ابھی سکوت بہ گلشن صدا بہ صحرا ہے
گناہگار ہوں اے مادر عدم ، مجھ کو
بلک بلک کے ترے بازوؤں میں رونا ہے
خمیر ایک ہے سب کا تو اے زمین اے ماں
زبان و مذہب و قوم و وطن، یہ سب کیا ہے
غلط سہی مگر آساں نہیں کہ یہ نکتہ
کسی حکیم نے اپنے لہو سے لکگا ہے
پیمبروں کو اتارا گیا تھا قوموں پر
خدا نے مجھ پہ مگر قوم کو اتارا ہے
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں