اور نہ در بہ در پھرا اور نہ آزما مجھے




اور نہ در بہ در پھرا اور نہ آزما مجھے
بس مرے پردہ دار بس ، اب نہیں حوصلہ مجھے
صبر کرو محاسبو وقت تمہیں بتائے گا
دہر کو میں نے کیا دیا دہر سے کیا ملا مجھے
رات لغات عمر سے میں نے چنا تھا ایک لفظ
لفظ بہت عجیب تھا یاد نہیں رہا مجھے
جو نہ سنا تھا دہر سے ، اس کی زباں سے سن لیا
اب مجھے کوئی کچھ کہے، فکر نہیں ذرا مجھے
محرم خاص دیکھنا سو تو نہیں گیا شعور
دیر ہوئی سنے ہوئے دوئی نئی صدا مجھے
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں