والہانہ نہیں برتاؤ تمہارا ہم سے




والہانہ نہیں برتاؤ تمہارا ہم سے
کیا تمہیں اور کوئی شخص ہے پیارا ہم سے
کس لیے شانہ بہ شانہ ہیں نہ جانے ہم تم
ہمیں تم سے نہ تمہیں کوئی سہارا ہم سے
دل اڑا لے گئی دزدیدہ نگاہی اس کی
چھن گیا آہ عجب مال ہمارا ہم سے
ہم نے اظہار تمنا کا اثر دیکھ لیا
اب وہ کرتے نہیں ملنا بھی گوارا ہم سے
شہر میں دل کے سوا کون ہمارا ہے شعور
بے تکلف ہے یہی درد کا مارا ہم سے
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں