ربطہ صبح و شام ہے ہم سے




ربطہ صبح و شام ہے ہم سے
کیا انہیں کوئی کام ہے ہم سے
توبہ نے ہاتھ باندھ رکھے ہیں
ورنہ کیا دور جام ہے ہم سے
اس جگہ اس مقام کے ہم ہیں
یہ جگہ یہ مقام ہے ہم سے
ہم ہیں ہر خاص و عام کے ہمدرد
تنگ ہر خاص و عام ہے ہم سے
کس کی آواز آرہی ہے شعور
کون یہ ہمکلام ہے ہم سے
انور شعور




اپنا تبصرہ بھیجیں