آج پھر تیر رگ جاں پہ گراں گزرا ہے




آج پھر تیر رگ جاں پہ گراں گزرا ہے
آج پھر وہم سا ہوتا ہے کہ زندہ ہوں میں
یہ بھی ممکن ہے یہیں حشر نوا برپا ہو
یہ بھی سچ ہے کہ ابھی شہر میں تنہا ہوں میں
مجھ سے پوچھو مری سیرابی جاں کا احوال
یہ تو دریاؤں کا کہنا ہے کہ پیاسا ہوں میں
خاک کو آگ دکھائیں تو یہی ہوتا ہے
اب یہ عالم ہے کہ جلتا ہوں نہ بجھتا ہوں میں
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں