ایسا تو نہیں کہ ان سے ملاقات نہیں ہوئی




ایسا تو نہیں کہ ان سے ملاقات نہیں ہوئی
جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نہیں ہوئی
پیش طلب تھا خوان دو عالم سجا ہوا
اس رزق پر مگر بسر اوقات نہیں ہوئی
ہم کون پیر دل زدگاں ہیں کہ عشق میں
یاراں ! بڑے بڑوں سے کرامات نہیں ہوئی
کیا سہل اس نے بخش دیا چشمہ حیات
جی بھر کے سیر وادی ظلمات نہیں ہوئی
میرے جنوں کو ایک خرابے کی سلطنت
یہ تو کوئی تلافی مافات نہیں ہوئی
یاقوت لب تو کار محبت کا ہے صلہ
اجرت ہوئی حضور، یہ سوغات نہیں ہوئی
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں