فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں




فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں
کہ ہم دست کرم دنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں
در روھانیا کی چاکری بھی کام ہے اپنا
بتوں کی مملکت میں کار سلطانی بھی کرتے ہیں
یہ وحشت اور یہ شائستگی طرفہ تماشا ہے
رفو بھی چاہتے ہیں، چاک دامانی بھی کرتے ہیں
اگر سمجھو تو اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں میں
کہ طائر میرے سینے مین پر افشانی بھی کرتے ہیں
ہمارے دل کو اک آزار ہے، ایسا نہیں لگتا
کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں