ہوشیار ی دل نادان بہت کرتا ہے




ہوشیار ی دل نادان بہت کرتا ہے
رنج کم سہتا ہے، اعلان بہت کرتا ہے
رات سے جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ
کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں