حاصل سیر بے دلاں ، کون و مکاں ، نہیں نہیں




حاصل سیر بے دلاں ، کون و مکاں ، نہیں نہیں
کوئے حرم ؟ نہیں نہیں ، شہر بتاں ؟ نہیں نہیں
جسم کی رسمیات اور ، دل کے معاملات اور
بیعت دست ؟ ہاں ضرور ، بیعت جاں ؟ نہیں نہیں
ہم افقرا کا نام کیا، پھر بھی اگر کہیں لکھو
لوح زمیں تو ٹھیک ہے ، لوح زماں ؟ نہیں نہیں
دونوں تباہ ہو گئے ، ختم کرو یہ معرکے
اہل ستم نہیں نہیں، دل زدگاں نہیں نہیں
گرمی شوق کا صلہ ؟ دشت کی سلطنت ، غلط
چشمہ خوں کا خوں بہا جوئے روا ں نہیں نہیں
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں