طنابیں کاٹ مرے ساتھ بادبانوں کی




طنابیں کاٹ مرے ساتھ بادبانوں کی
میں تجھ کو سیر کراؤں نئے جہانوں کی
ابھی وہ چاند سا چمکا تھا میری آنکھوں میں
کہ ساعتوں پہ گھٹا گھر گئی زمانوں کی
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں