پرند نامہ بری میں کہاں سے آتے ہیں




پرند نامہ بری میں کہاں سے آتے ہیں
سخن یہ بے خبری میں کہاں سے آتے ہیں
ہمیں بھی یاد نہیں ہے کہ ہم شرر کی طرح
ہوا کی ہمسفری میں کہاں سے آتے ہیں
دور ں میں آنکھیں، گھروں میں چراغ جلتے ہوئے
یہ خواب دربدری میں کہاں سے آتے ہیں
مسافتیں کوئی دیکھے کہ ہم سرابوں تک
گمان خوش نظری میں کہاں سے آتے ہیں
یہ کون جادہ گم گشتگاں اجالتا ہے
فرشتے دشت و تری میں کہاں سے آتے ہیں
اگر تراوش زخم جگر نہیں کوئی چیز
تو رنگ بے ہنری میں کہاں سے آتے ہیں
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں