میں طلبگار بھی تھا کام کی آسانی کا




میں طلبگار بھی تھا کام کی آسانی کا
حکم ہے مجھ کو خرابوں کی نگہانی کا
اس ہوس میں کہ مرے ہاتھ نہ خالی رہ جائیں
کتنا نقصان ہوا ہے مری پیشانی کا
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں