یہ جو اک وہم مجھے دشت کی تسخیر کا ہے




یہ جو اک وہم مجھے دشت کی تسخیر کا ہے
سب تماشا مری وسعت زنجیر کا ہے
لاؤ، یہ راکھ ہی خرمن کا اٹھا لو کہ سوال
میرے حاصل کا نہیں ہے ، مری تدبیر کا ہے
عرفان صدیقی




اپنا تبصرہ بھیجیں