دل دہلتا جائے ہے اور سانس رکتا جائے ہے




دل دہلتا جائے ہے اور سانس رکتا جائے ہے
جیسے جیسے راز ہستی مجھ پہ کھلتا جائے ہے
میری ہر اک بات پر تم سیخ پا ہو جاؤ ہو
دل کے رکھ لینے میں آخر کیا متہارا جائے ہے
کچھ علاج دل بھی اے چارہ گراں یہ آج کل
صھبت نازک خیالاں سے بھی اکتا جائے ہے
دل ، نظر، ہوش و خرد، ناموش راہ عشق میں
کیا کہوں اے دوست اس میں اور کیا کیا جائے ہے
سامنے آجائے تو کیا حال ہو کیا جانئے
وہ تصور سے بھی جس کے سانس اکھڑا جائے
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں