بے ثمر التجا کوئی کیسے کرے




بے ثمر التجا کوئی کیسے کرے
میرے حق میں دعا کوئی کیسے کرے
سب کے سر پر ہے جب ایک سا آسماں
میرے دکھ کی دوا کوئی کیسے کرے
جب لطافت بلا کی ملے ہجر میں
وصل کی پھر دعا کوئی کیسے کرے
برف جذبے ہگھلنے لگے چھاؤں میں
دھوپ کو اب ردا کوئی کیسے کرے
ابتدا ہی میں جب کٹ گیا سر تو پھر
عشق میں انتہا کوئی کیسے کرے
میں نے اس سے محبت کی جب بات کی
مجھ سے اس نے کہا کوئی کیسے کرے
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں