اپنا تھا کوئی یا کہ پرایا نہیں گیا




اپنا تھا کوئی یا کہ پرایا نہیں گیا
اس دل میں ایک بار جو آیا نہیں گیا
چاہا تھا اشک روک لیں پلکوں پہ تھوڑی دیر
لیکن یہ بوجھ ہم سے اٹھایا نہیں گیا
تسخیر کائنات کی کوشش میں تھے مگر
ہم سے سراغ اپنا بھی پایا نہیں گیا
کہنے کو مہر و ماہ بھی تھے، پھول بھی مگر
کچھ بھی تری مثال کو لایا نہیں گیا
ترک تعلقات کا الزام انہیں پہ کیوں
ہم سے بھی ساتھ ان کا نبھایا نہیں گیا
کیا کیا نہ ہم پہ عشق میں گزریں قیامتیں
کس کس طرح سے ہم کو ستایا نہیں گیا
افسوس ہے تو یہ کہ سر رہگذار زیست
ہم سے کوئی چراغ جلایا نہیں گیا
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں