اب اپنی دسترس میں کہاں صبح و شام ہیں




اب اپنی دسترس میں کہاں صبح و شام ہیں
یہ زندگی کے دن تو فقط تیرے نام ہیں
دھڑکا لگا ہے وصل سے پہلے فراق کا
تارے مرے نصیب کے کچھ تیز گام ہیں
سود زندگی کے نام پہ ہم زیر دام ہیں
اس گھر سے کس طرح تری یادیں نکال دیں
پر کیف ان سے زیست کے لمحے تمام ہیں
ہجر و وصال یار کی حد سے گزر گئے
لیکن محبتوں میں ابھی کتنے خام ہیں
اپنی تو حیثیت ہی سراسر بدل گئی
ہم جتنے خاص تھے کبھی، اب اتنے عام ہیں
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں