فاصلے درد کے طے کئے مستقل




فاصلے درد کے طے کئے مستقل
ضبط کے گھونٹ ہم نے پیے مستقل
اک مسلسل فراق اپنی قسمت میں تھا
عمر بھر خود سے کٹ کے جیے مستقل
آنکھ میں کچھ ستارے سے ہیں یاد کے
مضطرب دل تمہارے لئے مستقل
اک اداسی مقدر رہی رات بھر
یاد سے زخم دل کے سے مستقل
اس کو اک دن پلٹنا ہے اس آس پر
رکھ دیے طاق پر دو دیے مستقل
کس سے شکوہ کریں کس کو الزام دیں
کس نے ارشد ہمیں غم دیے مستقل
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں