میں خوش نصیب ہوں، کب سے تری نگاہ میں ہوں




میں خوش نصیب ہوں، کب سے تری نگاہ میں ہوں
ہزار شکر خدایا تری بناہ میں ہوں
تجھی پہ کیا، مجھے خود پر بھی اعتبار نہیں
عجیب طور کے اب کے میں اشتباہ میں ہوں
میں اس قدر تو نہ تھا مستقل مزاج کبھی
یہ معجزہ ہے کہ اب تک میں تیری چاہ میں ہوں
ابھی سے زعم کمال شنخوری کیسا
ابھی تو حلقہ یاراں کی واہ واہ میں ہوں
یہی بہت ہے کمال سخنوری کہ میاں
امیر شہر سخن کی میں بارگاہ میں ہوں
وہ جا چکا ہے اگر چھوڑ کر تو پھر شاہین
یہ انتظار ہے کیسا ، مین کس کی راہ میں ہوں ؟
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں