کیا پلٹ کر بہ چشم تر دیکھا




کیا پلٹ کر بہ چشم تر دیکھا
دیکھ سکتے نہ تھے مگر دیکھا
ایک در پر تمام عمر رہے
ایک رستہ ہی عمر بھر دیکھا
ہجر تو ں کے اداس موسم میں
اک پرندے کو شاخ پر دیکھا
یہ اماوس میں چاندی کیسی
یہ اماوس میں چاندی کیسی
کس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا
خود پسندی کی انتہا دیکھی
اپنے قدموں میں اپنا سر دیکھا
اک سمندر کے شوق میں رقصاں
ایک دریا کو ددر بہ در دیکھا
چاند پیکر کو ڈھال کر دل میں
آئنہ ہم نے رات بھر دیکھا
پھر بہارین گزر گئیں شاہین
پھر تمنا کو بے ثمر دیکھا
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں