ذہن تقسیم کیا دل کو کشادہ کر کے




ذہن تقسیم کیا دل کو کشادہ کر کے
کیا ملا ترک تعلق کا ارادہ کر کے
یہ جو جگنو سے نظر آتے ہیں جگنو کب ہیں
لفظ اڑتے ہیں تخیل کو لبادہ کر کے
منزلیں کرنے لگیں میرا تعاقب، جب سے
گھر سے نکلا ہوں تری یاد کو جادہ کر کے
ایسے بدلے ہیں زمانے کے سبھی طور کہ اب
لوگ کرتے ہیں محبت بھی طور کہ اب
لوگ کرتے ہیں محبت بھی ارادہ کر کے
پھر بھی اے دوست مروت میں کیے لیتا ہوں
جانتا ہوں وہ مکر جائے گا وعدہ کر کے
کیا ضروری ہے کہ اب راکھ کریدیں شاہین
اک فراموش محبت کا اعادہ کر کے
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں