تحیر اک عجیب سا سواد جاں میں چھا گیا




تحیر اک عجیب سا سواد جاں میں چھا گیا
وہ شخص ہر قدم نئی قیامتیں اٹھا گیا
وصال کی گھڑی میں شب عجب سکوت تھا کہ بس
نہ اس نے کوئی بات کی نہ مجھ سے کچھ کہا گیا
بہار کی مثال تھا خیا ل یار بھی مجھے
حریم جسم و جان میں گلاب سے اگا گیا
عجیب شخص تھا مرے وجود سے کٹا ہوا
جدا ہوا تو درمیاں کے فاصلے مٹا گیا
کچھ اس طرح کا ربط تھا مرے اور اس کے درمیاں
وہ آنکھ نم ہوئی تو پھر نہ مجھ سے بھی رہا گیا
یوں خوشبو ئیں سی بس گئی ہیں چار سو فضاؤں میں
مہک اٹھا مرا بدن یہ کون یاد آگیا
ارشد شاہین




اپنا تبصرہ بھیجیں