اے مجھے میر کے اشعار سنانے والے




اے مجھے میر کے اشعار سنانے والے
جاگ اٹھے ہیں کئی درد پرانے والے
مجھ کو تنہائی میں یوں چھوڑ کے جاتا کیوں ہے
تیری جانب ہیں کئی قرض چکانے والے
یہ بتا ہجر کے موسم کا مداوا کیا ہے
مجھ کو انداز محبت کے سکھانے والے !
عشق والوں سے حسب اور نسب پوچھتے ہو !
لوگ ہیں یہ تو میاں، اونچے گھرانے والے
ورنہ صحرا کی نہ یوں خاک اڑائی ہو تی
تو نے دیکھے ہی نہیں سانپ خزانے والے
دل کی منزل کا ہے آغاز وہاں سے آصف
لوٹ آتے ہیں جہاں سے یہ زمانے والے
آصف شفیع




اپنا تبصرہ بھیجیں